جمعرات, 09 ستمبر 2010 , 30 رمضان 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اب سے کچھ دیر کے بعد دبئی سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے والی ہیں۔ وہ دبئی ائیر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچ چکی ہیں۔

اب سے کچھ دیر پہلے پی پی پی کے رہنماء رحمٰن ملک نے پارٹی ورکرز اور میڈیا کے نمائندوں سے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو دوسری راستے سے لاؤنج میں پہنچیں گی، اس لیے سب لوگ اپنے بورڈنگ کارڈ حاصل کریں اور لاؤنج میں پہنچ جائیں۔ ائرپورٹ پر ناہید خان بھی موجود ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مطابق بینظیر بھٹو دبئی کے مقامی وقت کے مطابق دس بجے کراچی کے لیے روانہ ہو جائیں گی۔ ان کا جہاز کراچی کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً ایک بجے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اترے گا۔

دوسری طرف بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے پورے پاکستان سے پیپلز پارٹی کے حمایتی کراچی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور کراچی کی طرف آنے والی شاہراہوں پر ٹریفک جام کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے ملک بھر سے آنے والے کارکنوں کے قافلے ائرپورٹ پہنچ چکے ہیں، جس وجہ سے شاہراہ فیصل مکمل طور پر آمدرفت کے لیے بند ہوگئی ہے۔

کارکنوں کی آمد کا سلسلہ رات کو ہی شروع ہوگیا تھا اور صبح تک ہزاروں گاڑیاں پہنچ گئی جس وجہ سے ائرپورٹ سے مرکزی شہر کی طرف جانے والی یہ سڑک بلاک ہوگئی ہے۔

کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہاتھوں میں پارٹی پرچم اٹھائے ہوئے ہے اور ترانوں پر رقص ہو رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق بینظیر بھٹو دوپہر ایک بجے ائرپورٹ پہنچیں گی جہاں سے وہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینے کے بعد ایک جلسے عام سے خطاب کریں گے اور بعد میں اپنے گھر بلاول ہاؤس جائیں گی۔

کراچی میں جمعرات کو قومی شاہراہ سے لیکر سپر ہائی وے تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر طرف کارکن ہی کارکن نظر آرہے تھے، شہر میں بھی عام تعطیل کا سماں ہے۔ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے بہت کم ہے۔

حکومت نے تعلیمی اداروں کی تعطیل کا اعلان کیا ہوا ہے، جبکہ سرکاری اور نجی دفاتر میں حاضری بھی کم ہے۔بدھ کو دبئی میں اپنی وطن واپسی کے پروگرام کی تجدید کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ وہ پرامن طریقے سے ملک میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گی اور اگر پرامن طریقے سے تبدیلی ممکن نہ ہوسکی تو ’گلی محلوں میں احتجاج کریں گے۔‘

دبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں اپنے واپسی کے پروگرام میں کسی تبدیلی کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو وہ کراچی کے ہوائی اڈے پر اتریں گی۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں اپنی وطن واپسی کو مؤخر کرنے کے لیے ہر طرح سے دھمکایا گیا لیکن وہ ان دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر وطن واپس جا رہی ہیں۔

دبئی میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں بینظیر بھٹو کی دونوں بیٹیاں بختاور اور آصفہ دائیں بائیں بیٹھی تھیں جبکہ آصف زرداری بھی موجود تھے۔

بینظیر بھٹو کے شہور آصف علی زرداری اور اان کے بچے بینظیر کے ہمراہ نہیں جا رہے بلکہ سکیورٹی کے خدشات کے باعث ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد ان کے ساتھ نہیں جا رہا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں مقامی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود نے بھی بینظیر کو دھمکی دی تھی۔ بینظیر بھٹو نے ان دھمکیوں کے حوالے سے کہا کہ مسلمان جانتے ہیں کہ اگر وہ کسی عورت کو ہلاک کریں گے تو سیدھے جہنم کی آگ میں جائیں گے۔

قومی مصالحتی آرڈیننس پر سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس لیے جانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے خـفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت کہاں تھی جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سزا یافتہ وزیر اعظم کو جیل سے نکال کر سعودی عرب روانہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ جب کہاں تھی جب قدیر خان نے ٹیلی ویژن پر آ کر اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی غیر ممالک کو فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی بحالی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چالیس کارکنوں نے اپنی جان کے نذارنے پیش کیے۔

بینظیر بھٹو نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف کے دور میں انتہا پسندی کے رجحان کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں درجنوں کی تعداد میں فوجی جوانوں کو اغواء کیا جانے لگا ہے اور اس صورت حال میں انتہا پسندی کو روکنا اشد ضروری ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ان مسائل کا حل سیاسی طریقوں سے تلاش کرنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے اختر مینگل کا نام لیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی اسیروں کو رہا کیا جائے گا اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے گا۔اپنے استقبال کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انیس سو چھیاسی میں جتنے لوگوں نے لاہور میں استقبال کیا تھا کل بھی کراچی میں لوگوں کا سمندر انہیں لینے کے لیے ہوائی اڈے پر پہنچے گا۔

جنرل مشرف کے انتخاب سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر کا حلف لینے سے قبل وہ وردی اتار دیں گے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو پاکستانی نہیں بلکہ غیرملکی پرچم میں لپٹے سیاسی ایجنڈہ کو لے کر پاکستان آ رہی ہیں۔

’اگر بے نظیر بھٹو ٹکراؤ کی سیاست کرنے کی کوشش کریں گی تو اپنے شوہرآصف زرداری سے جلدی ملک سے چلی جائیں گی۔ پاکستان میں جھوٹے نعروں، خاندانی آمریت اور کرپشن کی سیاست کی اب کوئی گنجائش نہیں۔‘

وفاقی وزیر نے یہ باتیں محترمہ بینظیر بھٹو کی دبئی میں اخباری کانفرنس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اپنے دور اقتدار کو مفاہمتی آرڈیننس میں شامل نہیں کیا کیونکہ عوام کی طرح ان کی جماعت میں کرپشن کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت تسلسل، صدر پرویز مشرف کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے اور کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں جائے گی جبکہ دو دو مرتبہ حکمرانی کرنے والے ماضی کے سیاسی رویوں پر استغفار کے ایجنڈہ کے تحت انتخابات میں جائیں گے جن کے ریکارڈ پہ ماضی کے اندھیروں کے سوا کچھ نہیں۔

     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.