سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی روشنی میں کیے گئے یا ہونیوالے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کو اس آرڈیننس کے خلاف دائر پانچ آئینی پٹیشنوں کے فیصلے سے مشروط کر دیا ہے۔
قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد روکنے کا حکم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مبشر حسن، سابق بیوروکریٹ روئیداد خان، طارق اسد اور اسلم خاکی کی آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے بعد دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے وفاق پاکستان اور صدرِ پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئینی درخواستوں کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی۔ بینچ کے دوسرے ارکان جسٹس شاکر اللہ جان اور جسٹس نواز عباسی ہیں۔
عدالت نے آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواستیں عوامی مفاد کے اہم معاملے سے متعلق ہیں اس لیے ان کی سماعت سپریم کورٹ کا ایک لارجر بینچ کرے گا۔
سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اللہ نواز، سندھ ہائی کورٹ کے جج شائق عثمانی اور سابق اٹارنی جنرل سردار احمد کو عدالت کے معاونین مقرر کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابتدائی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’فائدہ اٹھانے والے (مفاہمتی آرڈیننس کا) کسی تحفظ کے حقدار نہیں ہونگے اگر عدالت اس آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیتی ہے۔‘
انہوں نے وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے بھٹو، مشرف یا کسی اور فرد کا نام نہ لیں۔ ’ہم کسی فرد کے خلاف نہیں ہیں، ہمیں صرف قانون کا جائزہ لینا ہے۔ ہم کسی ایک فرد کے خلاف مقدمہ نہیں سن رہے‘۔
نے یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ کے سامنے اپنی غیر حاضری میں احتساب عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دے رکھی ہے جس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔
دوسری طرف بےنظیر بھٹو، آصف علی زرداری، ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رحمٰن ملک اور وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت اپنے خلاف احتساب عدالت میں زیرِ سماعت بدعنوانی کے مقدمات خارج کرنے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔