پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شعیب اخترکو قوائد کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے تیرہ انٹرنیشنل میچز کھیلنے کی پابندی اور چونتیس لاکھ روپے جرمانے اور نو اعشاریہ پانچ ڈسپلنری پوائنٹس کی کٹوتی کی سزا سنائی ہے۔
ڈسپلنری کمیٹی کے چئرمین پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شعیب اختر تیرہ میچز میں سے نو میچز پر پابندی کی سزا بھگت چکے ہیں اور مزید چار میچز میں نہیں کھیل سکتے۔ اس طرح وہ جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ ایک روزہ سیریز کے آخری میچ کے لیے سلیکشن کے لیے دستیاب ہوں گے۔
شعیب اختر ڈسپلنری کمیٹی کے اس فیصلے کے خلاف سات دن کے اندر اپیل دائر کر سکیں گے تاہم پریس کانفرنس میں موجود شعیب اختر نے کہا کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ محمد آصف اور اپنی ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں سے معافی مانگتے ہیں۔ یہ چار ہفتے ان پر کڑے گزرے ہیں جس سے انہیں سبق مل گیا ہے کہ آئندہ وہ اپنے غصے پر قابو رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں جو سزا سنائی گئی ہے وہ پوری کریں گے جرمانہ بھی ادا کریں گے کیونکہ وہ کرکٹ بورڈ سے لڑائی نہیں چاہتے بلکہ وہ اپنے کھیل پر توجہ دینا چاہتے ہیں اور چار سو وکٹ حاصل کرنے کا اپنا ٹارگٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کی سیریز ان کے لیے بہت اہم ہے اور وہ اسے کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان کے کیریر میں انڈیا کا آخری دورہ ہو اس لیے وہ اسے یادگار بنانا چاہتے ہیں اور وہ اس کے لیے خود کو فٹ رکھیں گے۔