جمعرات, 09 ستمبر 2010 , 30 رمضان 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
شعیب کے خلاف سماعت مکمل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شعیب اختر کے خلاف الزامات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے سماعت مکمل کر لی ہے جبکہ اس پر فیصلہ چند روز تک سنایا جائے گا۔

ڈسپلنری کمیٹی کے سربراہ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے سماعت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ شعیب اختر نے ڈسپلنری کمیٹی کو درخواست کی تھی کہ وہ اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہونا چاہتے ہیں اور کمیٹی نے روایت کے برعکس ان کی اس درخواست کو تسلیم کیا اور شعیب اختر اپنے وکیل بلال منٹو کے ساتھ پیش ہوئے۔

شفقت نغمی کے مطابق شعیب اختر کے خلاف جنوبی افریقہ میں محمد آصف کو بیٹ مارنے کے علاوہ اور بھی الزامات ہیں جن میں جنوبی افریقہ سے واپسی پر بغیر اجازت پریس کانفرنس کرنا، انگلینڈ میں بغیر اجازت میچ کھیلنا اور پی سی بی کی قائم کردہ ڈوپنگ کمیٹی پر تنقید کرنا شامل ہیں۔

شفقت نغمی کے مطابق شعیب اختر کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی اس خلاف ورزی سے کرکٹ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

شفقت نغمی کا کہنا تھا کہ ان الزامات کا الگ الگ جائزہ لیا گیا اور ان سے متعلقہ لوگوں کے بیان ریکارڈ کیے گئے۔جو افراد ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے گواہی دینے آئے ان میں منیجر طلعت علی، محمد آصف اور شاہد آفریدی شامل ہیں۔ ان گواہوں سے شعیب اختر کے وکیل نے بھی جراح کی اور باقی الزامات کے بارے میں ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔

شفقت نغمی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم کی شکست کے بعد شعیب اختر کے بارے میں نرم رویہ رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ فیصلہ ضمیر کے مطابق اور واقعات کو دیکھ کر کریں گے تا کہ نہ تو کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور نہ کسی کو خاص رعایت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کو تین لاکھ جرمانے کی سزا جو معطل کر دی گئی تھی وہ نئی خلاف ورزی کے سبب دوبارہ لاگو ہو سکتی ہے۔

شفقت نغمی نے بتایا کہ عید سے پہلے ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

شاہد آفریدی نے کمیٹی کے سامنے گواہی دینے کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں کہا کہ شعیب اختر نے پریس کانفرنس میں ان پر جو الزامات لگائے تھے انہوں نے رمضان کے تقدس میں ان کو معاف کر دیا ہے اور ان کا دل صاف ہے۔جنوبی افریقہ میں ہونے والے واقعے کو میڈیا تک پہنچانے کے لیے شعیب اختر نے شاہد آفریدی کا نام لیا تھا۔ شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور وہ واقعہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہی کسی بندے نے میڈیا تک پہنچایا ہوگا۔

شاہد آفریدی کے اس بیان پر شفقت نغمی کا کہنا تھا کہ وہ آفریدی سے اس سلسلے میں پوچھ گچھ کریں گے۔

     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.