جمعرات, 09 ستمبر 2010 , 30 رمضان 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
انضمام ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف آٹھ اکتوبر سے لاہور میں شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ ان کا الوداعی ٹیسٹ ہوگا۔

انضمام الحق نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان جمعہ کو نیشنل سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ انضمام الحق کو لاہور ٹیسٹ میں شاندار طریقے سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے الوداع کہا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ٹیسٹ ’انضی ٹیسٹ‘ ہوگا۔37 سالہ انضمام الحق نے اپنے سولہ سالہ شاندار بین الاقوامی کریئر میں119 ٹیسٹ میچز کھیلتے ہوئے8813 رنز اسکور کئے۔ ان کی 25 سنچریاں ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ بھی ہے۔

انضمام الحق ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے سب سے زیادہ جاوید میانداد کے8832 رنز کے ریکارڈ سے صرف20 رنز کی دوری پر ہیں۔
378 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں انضمام الحق نے11739 رنز سکور کیے ہیں ۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔

واضح رہے کہ انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت اختیار کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انضمام الحق پر پاکستانی کرکٹ کے دروازے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم یوٹرن لینے کے بعد اس نے مصالحتی فارمولے پر پہنچتے ہوئے انضمام الحق کو ’اعلان شدہ‘ آخری ٹیسٹ کھل کر اپنا کریئر ختم کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

انضمام الحق نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایک ڈیڑھ سال مزید انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ ان کی ڈریسنگ روم میں موجودگی سے نوجوان کرکٹرز دباؤ محسوس کریں گے لہذا انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔

انضمام الحق نے کہا کہ جاوید میانداد کا ریکارڈ ان کی ترجیح نہیں کیونکہ انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ ورلڈ کپ92 کی جیت ان کے کریئر کا سب سے یادگار لمحہ تھا۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ کی سنچری اور بھارت کے خلاف بنگلور کی جیت کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

انضمام الحق نے کہا کہ جب آپ کا کریئر طویل ہوتا ہے تو دکھ اور افسوس کے لمحات بھی ہوتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز میں منعقدہ ورلڈ کپ ان کے لیے دکھ رکھتا ہے۔ وہ اس میں اچھے نتائج اور کارکردگی کی توقع رکھتے تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

انضمام الحق نے کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کھیل سے ناتہ جوڑے رکھیں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی اکیڈمی قائم کریں اور کوچنگ کریں۔

     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.