جمعرات, 09 ستمبر 2010 , 30 رمضان 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی جانب سے اتوار کو کراچی میں بہادر آباد پولیس سٹیشن میں اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرانے کے لیے ایک درخواست جمع کرائی گئی ہے جس میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔یہ درخواست پی پی پی سندھ کے صدر قائم علی شاہ نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں نثار کھوڑو، آفتاب شعبان میرانی، اور جمیل سومرو کے ساتھ بہادر آباد تھانے پہنچ کر پولیس کے حوالے کی۔ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے بتایا کہ ’اس واقعے کی پہلے ہی ایک ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور اس درخواست پر قانون کے مطابق چارہ جوئی کی جائے گی‘۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پولیس بینظیر بھٹو کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر ایف آئی آر درج کرے گی یا نہیں اوراس موضوع پر مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔

قائم علی شاہ نے بتایا کہ ایس ایچ او کی جانب سے ایف آئی آر درست نہیں کیونکہ وہ متاثر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیموں پر ان کو اعتماد نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اٹھارہ اکتوبر کی رات کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے میں شارع فیصل پر کارساز موڑ کے قریب ہونے والے دو بم دھماکوں میں 134 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جس کی ایف آئی آر بہادرآباد کے ایس ایچ او عابد علی شاہ کی جانب سے پہلے ہی درج کی جاچکی ہے۔کراچی میں پی پی پی کے ترجمان وقار مہدی نے بتایا کہ بینظیر بھٹو نے اپنی درخواست میں کہا ہے ان کی حکومت کو غیر جمہوری طور پر سن 1996 میں ہٹایا گیا جبکہ ان کو عوام کی حمایت حاصل تھی جس کے بعد ان کو 1999 مجبوراً ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔

پی پی پی کے ترجمان کے مطابق بینظیر بھٹو نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ’اٹھارہ اکتوبر کو ان کی وطن واپسی پر حکومت کی جانب سے ان کو بتایا گیا تھا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو سولہ اکتوبر کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے ان افراد کی نشاندہی بھی کی تھی جن پر انہوں نے اپنے شک کا اظہار کیا تھا۔ تاہم انہوں نے ان کے نام اپنی درخواست میں واضح نہیں کیے ہیں‘۔

بینظیر بھٹو نے مزید کہا ہے کہ ’اٹھارہ اکتوبر کو جب وہ ائرپورٹ سے ایک بہت بڑے جلوس کے ساتھ دس گھنٹے بعد کارساز کے قریب پہنچیں تو دو بم دھماکے کیے گئے جن میں 140 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جس میں وہ بال بال بچ گئیں تھیں‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ دھماکے ان کو اور ان کی پارٹی کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ انہوں نے درخواست میں کہا کہ اس واقعہ کا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور ایکسپلوسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے‘۔






     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.