جمعہ, 10 ستمبر 2010 , یکم شوّال 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کا ایک بہت بڑا جلوس ایک کلو میٹر کا راستہ ساڑھے چار گھنٹے میں طے کرکے سٹار گیٹ سے کچھ آ گے بڑھ گیا ہے۔آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد بینظیر بھٹو جمعرات کی دوپہر پاکستانی وقت کے مطابق ایک بجے کر چھیالس منٹ پر دبئی سے امارات ایئر لائن کی پروار 606 سے کراچی پہنچیں تھیں۔

کراچی کے ہوائی اڈے کے باہر اور شاہراہ فیصل پر ملک بھر سے آئے ہوئے پارٹی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی منتظر تھی۔ پارٹی کی چیئرپرسن کا کراچی پہنچنے پر کارکنوں میں جوش و خروش دیدنی تھا۔

بینظیر بھٹو خصوصی طور پر تیار کیے گئے بلٹ پروف ٹرک پر سوار ہوئیں لیکن وہ بلٹ پروف کیبن کی بجائے پارٹی رہنماوں کے ساتھ ٹرک کے عرشے پر کھڑے ہو کر کارکنوں کے والہانہ نعروں کا جواب دیتی رہیں۔

جلوس میں شریک پارٹی کے کارکن ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر رقص کرنے والے ان کارکنوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ٹرک پر ان کے ہمراہ مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، قائم علی شاہ، نثار کھوڑو شیری رحمان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی سوار ہیں۔

کراچی پہنچنے پر بینظیر بھٹو آب دیدہ ہو گئی تھیں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔ میں اس وقت کی بہت دن سے منتظر تھی اور جب میں یہاں اتری تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ دن جس کا میں نے مہینوں، سالوں انتظار کیا ہے وہ آخرِ کار آ گیا ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے سنہ 1986 میں اپنی واپسی سے تقابل کے سوال پر بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میں نے گزشتہ بیس برس میں میں بہت کچھ سیکھا ہے لیکن ہم اب تک آمریت سے لڑ رہے ہیں‘۔

بینظیر کی آمد کے موقع پر کراچی شہر خصوصاً ہوائی اڈے اور قائداعظم کے مزار اور بلاول ہاؤس تک پارٹی کے لاتعداد جھنڈے ، پوسٹروں اور بینروں سے سجایا گیا ہے۔ کراچی میں معمول کی زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہی گئی ہے اور ٹرانسپورٹ اور بسیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں دفتروں تک نہیں پہنچ سکے جبکہ سکول اور تعلیمی اداروں میں عام تعطیل ہے۔

کراچی کے ہوائی اڈے کے باہر اور شاہراہ فیصل پر موجود پارٹی کے کارکنوں اور حمایوں کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوی کیئے جا رہے ہیں اور بینظیر کے استقبال کا انیس سو چھیاسی میں لاہور میں ہونے والے استقبال سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔

ادھر مزار قائد پر جہاں بینظیر بھٹو نے جلسہ عام سے خطاب کرنا ہے وہاں پر بھی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے اور بڑی بڑی ٹی وی سکرینوں پر ذولفقار علی بھٹو کی تقاریر کی ریکارڈنگ چلائی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل دبئی کے ایئرپورٹ پر بینظیر بھٹو نے جہاز پر روانگی سے قبل آخری لمحات میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دبئی سے کراچی تک کا فضائی سفر ان کے لیے علامتی طور پر ایک تاریخی سفر ہے اور کراچی میں ان کا انیس سو چھیاسی سے بڑا استقبال ہو گا۔

بینظیر بھٹو نے دعوٰی کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ان کا استقبال کرنے کے لیے کراچی کے ہوائی اڈے پر دس لاکھ افراد پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ان کا استقبال انیس سو چھیاسی سے زیادہ بڑا ہوگا اور یہ لوگ جو کراچی کے ہوائی اڈے پر جمع ہوئے ہیں وہ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، غیر یقینی اور عدم تحفظ سے تبدیلی اور نجات چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے لیے وقف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں غریبوں کی لیڈر ہوں، ان کے ساتھ جیؤں گی ان کے ساتھ مروں گی۔‘

دبئی سے کراچی جانے والی فلائٹ کے اندر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مسافروں اور پارٹی کارکنوں میں پیپلز پارٹی کے جھنڈوں کے رنگ والی ٹوپیاں تقسیم کیں۔
دبئی کے ہوائی اڈے پر آصف علی زرداری اور ان کی دونوں صاحبزایوں بختاور اور آصفہ بینظیر بھٹو کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھے جبکہ ان کی بہن صنم بھٹو ان کے ہمراہ پاکستان آئی ہیں۔ جہاز پر بینظیر کی آمد پر گو مشرف گو، بینظیر وزیراعظم اور جئے بھٹو کےنعرے بلند کیے گئے۔

کارکنوں کی آمد کا سلسلہ رات کو ہی شروع ہوگیا تھا اور صبح تک ہزاروں گاڑیاں پہنچ گئی جس وجہ سے ائرپورٹ سے مرکزی شہر کی طرف جانے والی یہ سڑک بلاک ہوگئی ہے۔

کراچی میں جمعرات کی رات سے ہی قومی شاہراہ سے لیکر سپر ہائی وے تک پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن ایک بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔کراچی شہر میں بہت سی جگہوں پر لوگوں نے سارے دن سڑکوں پر بینظیر کے انتظار میں گزارا۔

     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.