جمعرات, 09 ستمبر 2010 , 30 رمضان 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک دن کی خاموشی کے بعد ایک مرتبہ پھر سکیورٹی فورسز اور مقامی شدت پسندوں کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ادھر مقامی طالبان کے ترجمان نے مستقل فائربندی کے امکان کو رد کرتے ہوئے گزشتہ چار روز کی لڑائی میں اپنے بیس ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری بند نہ کی تو حملوں میں تیزی لائی جائے گی۔مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات مسلح مقامی طالبان نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی حدود میں واقع امین چیک پوسٹ، بانڈہ چیک پوسٹ اورگورا قبرستان پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی جس میں میران شاہ سکاؤٹس قلعہ سے توپخانے کا استعمال بھی کیا گیا۔ تاہم دونوں جانب سے کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس کے علاوہ جمعرات کی شام بنوں سے میرانشاہ جانے والے فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی ایف آر بکاخیل میں ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جنہیں فوری طور پر بنوں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

سکیورٹی فورسز پر یہ حملے ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب مقامی انتظامیہ کی کوششوں سے مستقل فائربندی کے لیے مقامی قبائل کا ایک جرگہ بھی مذاکرات میں مصروف ہے۔جرگے نے جمعرات کی شام مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں سے سابقہ ممبر قومی اسمبلی مولانا نیک زمان کی قیادت میں ملاقات بھی کی تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس ملاقات کے نتائج کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

ادھر مقامی شدت پسند طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک مذاکراتی جرگہ نے ان سے علاقے میں مستقل فائربندی کے حوالے سے بات چیت کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کی طالبان شورٰی کا فیصلہ ہے کہ وہ فائربندی کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عام شہریوں پر بمباری حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے اور اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھ تو حملوں میں مزید تیزی لائی جائےگی۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگر حکومت طاقت آزمانا چاہتی ہے تو وہ عام شہریوں پر بمباری کی بجائے کھلے میدان میں طالبان کا سامنا کریں‘۔

     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.