جمعہ, 10 ستمبر 2010 , یکم شوّال 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں قبائلی عمائدین کا جرگہ سکیورٹی فورسز اور مقامی جنگجو طالبان کے درمیان تین دن سے جاری لڑائی کے بعد عارضی فائربندی کروانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

ادھر پاک فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں پیر کو لاپتہ ہونے والے پچاس فوجیوں میں سے پچیس کی لاشیں مل گئی ہیں۔مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میرعلی سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگہ پیر کو شام گئے فائربندی میں کامیاب ہوگیا لیکن میرعلی کو جانے والے راستے بدستور بند ہیں جبکہ بنوں میرانشاہ شاہراہ بھی تاحال ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔

میر علی کے علاقے میں فائر بندی کروانے والے جرگے کے ایک رکن شیر خان ملک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جرگے نے میر علی کے علاقے عیدک اور خوشالی سے ملنے والی پنتالیس لاشوں کو پیر کی شام میر علی سکاؤٹس کے قلعے میں پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام لاشیں پاکستانی فوج کے جوانوں کی تھیں۔ شیر خان ملک نے بتایا کہ اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی لاشیں موجود ہیں اور جرگہ منگل کی صبح ان علاقوں سے لاشیں لانے کے لیے جائےگا۔ عام شہریوں کا بھی کہنا ہے کہ میرعلی کے شمال میں خیسورہ اور جیلر کےعلاقوں میں اب بھی کافی لاشیں پڑی ہیں۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ لاشیں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہیں یا شدت پسندوں کی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پاکستانی طالبان کے درمیان سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک پنتالیس پاکستانی فوجی اور ایک سو تیس مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق پیر کو ہونے والی جھڑپوں میں مزید چونسٹھ شدت پسند بھی مارے گئے جبکہ گزشتہ دو دن میں ساٹھ شدت پسند اور بیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے پیر کو شمالی وزیرستان میں پچاس فوجیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ ترجمان کے مطابق یہ فوجی اس وقت لاپتہ ہوئے جب شدت پسندوں نے میر علی کے قصبے کے قریب واقع سکیورٹی چیک پوسٹ اور گشت پر مامور فوجی ٹیم پر حملہ کیا تھا۔

تاہم مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا نقصان ان اعدادشمار سے کہیں زیادہ ہے۔طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ان کا بہت کم جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ عیدک اور خوشحالی میں فوجیوں کی ساٹھ لاشیں پڑی ہیں جبکہ انہوں نے فوج کی گیارہ گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے جبکہ چارگاڑیاں ان کے قبضے میں ہیں۔

شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور دو دن پہلے مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہ کیا گیا تو سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آ جائے گی۔

     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.