جمعہ, 10 ستمبر 2010 , یکم شوّال 1431 هجري
 
Click here for English Version
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر بینظیر استقبالیہ دھماکے، تفتیش جاری بی بی کی ایف آئی آر کیلیے درخواست بینظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، 124 افراد ہلاک بینظیر کا جلوس، ساڑھے تین گھنٹے میں صرف ایک کلومیٹر بینظیر وطن واپسی کے تاریخی سفر پر صدر کی وردی کا فیصلہ، سماعت شروع قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد مشروط مستقل فائربندی سے انکار،جھڑپیں دوبارہ شروع بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں: مشرف دو سو سے زائد ہلاک، سینکڑوں خاندان بےگھر مزید ہلاکتوں کے بعد عارضی فائر بندی ثانیہ جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں وزیرستان: جھڑپیں جاری، جیٹ طیاروں کا استعمال مخالفین سےمفاہمت کی اپیل قومی مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق ’حالات عوامی احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں‘
 
Google
 
مخالفین سےمفاہمت کی اپیل

صدر جنرل پرویز مشرف نے عوام، حزب اختلاف اور وکلاء سے اپیل کی ہے کہ وہ اب احتجاج، ہڑتال اور ٹکراؤ کی سیاست کو چھوڑ کر قومی مفاہمت کا حصہ بنیں۔

ایوان صدر اسلام آباد میں صدارتی انتخاب میں ’غیرسرکاری‘ جیت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان لوگوں کا ساتھ نہ دیں جو انہیں احتجاج اور ہڑتال پر اکسا رہے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر وکلاء کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ ’امن و حق‘ کا راستہ ااختیار کریں۔ ’آپ ملک کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ہیں لہذا امن کی بات کریں۔‘

اس سال نو مارچ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد سے وکلاء ان کے سب سے بڑے مخالف گروپ کی صورت میں سامنے آئے تھے۔ جو اب بھی ان کے خلاف آئینی جنگ لڑ رہے ہیں۔

البتہ ایک سوال کے جواب میں کہ سپریم کورٹ میں ان کا مقدمہ زیر سماعت ہے تو اگر فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو کیا وہ صدارت چھوڑ دیں گے، ان کا کہنا تھا کہ پہلے عدالت کو ایک فیصلے پر پہنچنے دیں اس کے بعد دیکھا جائے گا۔

گزشتہ تین چار روز میں ٹی وی چینلوں کو دیے گئے انٹرویو کے مقابلے میں وہ زیادہ پراعتماد اور جارحانہ موڈ میں دکھائی دے رہے تھے۔ سوٹ میں ملبوس صدر نے میڈیا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی آزادی کے سب سے بڑے حامی ہیں لہذا انہیں عوام کو اچھی اچھی باتیں بتانی چاہیں۔

صدر نے صرف تین سوالات کے جواب دیے۔ حزب اختلاف کی طرف سے بائیکاٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب اکثریت ہوتا ہے۔ ’چون پچپن فیصد اراکین نے مجھے ووٹ دیا لہذا ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔‘

حزب اختلاف کی جماعتوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے انہیں ٹکراؤ اور لڑائی کی پالیسی ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ پیپلز پارٹی سے مفاہمت کے بارے میں سوال کا انہوں نے جواب نہیں دیا صرف اتنا کہا کہ ان کی مفاہمت کی پیشکش تمام جماعتوں کے لیئے ہیں۔

صدر نے صدارتی انتخاب مکمل کرنے پر الیکشن کمیشن کی تعریف کی اور اپنی تمام حامی سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔

     
 
 
 
 
Daily Watan-E-Aziz International
© Copyright All rights reserved.